بدھ 22 جولائی 2026 - 12:45
ظاھری اقتدار کے مقابل معنوی جدوجہد

حوزہ/عباسی دور میں اگرچہ سلطنت مضبوط ہوئی، دولت اور ظاہری علم و ثقافت میں اضافہ ہوا، مگر اس کے باطن میں فکری و عقیدتی انتشار، ظلم اور جبر کی فضا قائم رہی۔ عباسی حکمرانوں کی سخت اور جابرانہ پالیسیوں نے اہلِ بیتؑ اور حقیقی اسلامی تعلیمات کے مبلغین کے لیے حالات نہایت دشوار بنا دیے۔ اس دور میں علم کی سرپرستی دراصل اقتدار کے استحکام کا ذریعہ تھی، جبکہ حق کی آواز کو دبایا جا رہا تھا۔

ترجمہ و ترتیب: سیدہ ثمن رباب رضوی

حوزہ نیوز ایجنسی| امام موسیٰ کاظمؑ کی امامت اسی سخت، پُرآزمائش اور خطرناک دور میں شروع ہوئی۔ عباسی خلفا منصور، مہدی، ہادی اور بالخصوص ہارون الرشید کے زمانے میں امامؑ کو مسلسل نگرانی، دباؤ، قید و نظر بندی اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا۔ بظاہر علمی ترقی کے باوجود اصل مقصد اہلِ بیتؑ کی تحریک کو کمزور کرنا تھا، کیونکہ امامؑ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت عباسی خلافت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن چکی تھی۔

امام موسیٰ کاظمؑ نے اس ماحول میں کھلی بغاوت کے بجائے حکمت، صبر، تقیہ اور منظم مگر خاموش جدوجہد کو اپنا طریقۂ کار بنایا۔ آپؑ نے خفیہ رابطوں، فکری تربیت اور تنظیمِ شیعہ کے ذریعے امامت اور دینِ حق کو محفوظ رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ مورخین نے اس خاموش جدوجہد پر کم توجہ دی، مگر درحقیقت یہی جدوجہد اسلام کی حقیقی روح کے تحفظ کا سبب بنی۔

ہارون الرشید بظاہر احترام اور نرمی کا رویہ اختیار کرتا تھا، مگر باطن میں امامؑ کی معنوی برتری، عوامی مقبولیت اور روحانی اثر سے خوفزدہ تھا۔ فدک کے مسئلے پر امامؑ نے نہایت حکمت کے ساتھ واضح کر دیا کہ اصل تنازع زمین کا نہیں بلکہ خلافت اور حقِ امامت کا ہے، جس سے ہارون لاجواب ہو گیا۔ ظاہری اقتدار کے باوجود وہ امامؑ کی اخلاقی اور روحانی عظمت کے سامنے بے بس نظر آتا تھا۔

اسی خوف کے تحت عباسی خلفا نے بار بار امام موسیٰ کاظمؑ کو قید کیا، یہاں تک کہ ہارون کے دور میں طویل قید کے بعد آپؑ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا۔ مگر قید و شہادت کے باوجود امامؑ کی تعلیمات، اثر و رسوخ اور تحریک ختم نہ ہو سکی، بلکہ لوگوں کے دلوں میں مزید مضبوط ہو گئی۔

شیعہ کتب کے مطابق امام موسیٰ کاظمؑ کی سیاست محض خاموشی نہیں تھی بلکہ ایک منظم، بامقصد اور دور اندیش مزاحمت تھی۔ اس کی بہترین مثال علی بن یقطینؒ کا کردار ہے۔ وہ بظاہر ہارون الرشید کی حکومت میں ایک اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز تھے، مگر حقیقت میں امامؑ کے مخلص شیعہ اور خفیہ نمائندے تھے۔ اپنے منصب کے ذریعے وہ شیعوں کو ظلم سے بچاتے، قیدیوں کی رہائی کرواتے، سختیوں کو نرم کرواتے اور امامؑ تک خفیہ طور پر اطلاعات اور اموال پہنچاتے تھے۔

جب علی بن یقطینؒ نے اس منصب سے الگ ہونے کی اجازت مانگی تو امامؑ نے فرمایا: "اپنا منصب مت چھوڑو، کیونکہ اللہ ظالموں کے دروازوں پر ایسے افراد کو مقرر کرتا ہے جن کے ذریعے وہ اپنے اولیاء کی حفاظت کرتا ہے۔ (اصول الکافی، شییخ کلینی)

وضو کا مشہور واقعہ تقیہ اور اس منظم نیٹ ورک کی زندہ مثال ہے، جس کے ذریعے امامؑ نے نہ صرف علی بن یقطینؒ کو بچایا بلکہ پوری تحریک کو محفوظ رکھا۔ امامؑ نے آخرکار ان کے بارے میں فرمایا: "علی بن یقطین اہلِ جنت میں سے ہیں۔(بہار الانوار، علامہ مجلسی)

نتیجتاً، امام موسیٰ کاظمؑ کی سیاسی جدوجہد:

کھلی بغاوت نہیں، بلکہ تنظیمی اور فکری مزاحمت تھی

تقیہ، صبر اور حکمت پر مبنی تھی

قید کے باوجود مرکزی قیادت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہی

اور یہی نظام بعد میں غیبتِ صغریٰ اور نوّابِ اربعہ کی بنیاد بنا

نتیجہ

یہی وجہ ہے کہ امام موسیٰ کاظمؑ کی زندگی خاموش مگر مؤثر انقلاب کی روشن مثال ہے، جس نے عباسی ظلم کو بے نقاب کیا اور اسلامِ حقیقی کو تحریف سے محفوظ رکھا۔

(اقتباس از کتاب ۲۵۰ سالہ انسان)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha